قومِ سبا کی ناشکری اور انجام

 تعارف

قوم سبا ایک عظیم اور خوشحال قوم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ یہ قوم علم، تمدن اور زراعت میں اپنی مثال آپ تھی۔ لیکن جب انہوں نے شکر کے بجائے ناشکری اور تکبر کو اپنا شعار بنایا، تو ان پر وہ عذاب نازل ہوا جس نے ان کی پوری سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا۔ قوم سبا کا یہ واقعہ قرآنِ کریم میں بطورِ عبرت بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان نعمتوں کی قدر کرے اور غرور سے بچے۔

 قوم سبا کی خوشحالی

قوم سبا کے علاقے کو “ہل سرسار” کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ خوشحال، مطمئن اور امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ زمین زرخیز، پانی وافر، اور باغات پھلوں سے لدے ہوئے تھے۔ ان کے درختوں سے پھل اس قدر جھک جاتے کہ اگر کوئی شخص ان کے نیچے سے گزرتا تو پھل خود بخود اس کی ٹوکری میں گر پڑتے۔
ان کی سلطنت حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کی حکمت و عدل کے بعد بھی مضبوط تھی، اور لوگ انہیں دنیا کی ایک مثالی قوم سمجھتے تھے۔

 ناشکری اور غرور کا آغاز

نعمتوں کی فراوانی نے قوم سبا کو شکر کے بجائے غرور میں مبتلا کر دیا۔ ان میں طبقاتی فرق پیدا ہوا، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی بے حرمتی شروع کر دی۔
روایات کے مطابق وہ اپنی روٹیوں سے بچوں کا پاخانہ صاف کرتے، اور انہی ناپاک روٹیوں کا ایک بڑا ڈھیر بنا ہوا تھا۔

ایک صالح شخص نے ایک عورت کو ایسا کرتے دیکھا تو کہا:

“اللہ سے ڈر، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی نعمتیں تم سے چھین لے۔”

مگر عورت نے تکبر سے جواب دیا:

“جاؤ! جب تک سرسار بہتا ہے، مجھے بھوک کا کوئی خوف نہیں!”

 عذابِ الٰہی کا نزول

جلد ہی اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب نازل کیا۔ پانی — جو زندگی کی بنیاد تھا — ان سے چھین لیا گیا۔ قحط پڑ گیا، زمین بنجر ہو گئی اور بھوک نے ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
اب وہی لوگ جو کبھی نعمتوں کے پہاڑ تلے رہتے تھے، انہی ناپاک روٹیوں پر ٹوٹ پڑے جنہیں وہ کبھی حقیر سمجھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورۃ النحل (آیات 112–113) میں فرمایا:

“اور اللہ نے ایک بستی کی مثال دی جو امن و اطمینان میں تھی، رزق ہر طرف سے آ رہا تھا، مگر جب انہوں نے نعمتوں کا انکار کیا تو اللہ نے انہیں بھوک اور خوف کا مزہ چکھایا ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے۔”

بندِ مَأرِب کا سیلاب

قوم سبا نے اپنی زراعت کے لیے بلق کے دو پہاڑوں کے درمیان ایک عظیم بند “مأرِب” تعمیر کیا تھا، جس میں بارشوں اور چشموں کا پانی جمع ہوتا۔ یہ بند ان کے باغات کو سیراب کرتا اور خوش حالی کی علامت تھا۔
مگر جب ناشکری حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے ایک معمولی سبب سے ان کی سلطنت ختم کر دی۔ روایات کے مطابق صحرائی چوہوں نے بند کی دیواروں کو کھوکھلا کر دیا۔ جب شدید بارشیں ہوئیں تو بند ٹوٹ گیا اور ایک تباہ کن سیلاب آیا جس نے سب کچھ بہا دیا۔

قرآنِ مجید میں سورۃ سبا (آیات 15–17) میں فرمایا گیا:

“ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی، اور ہم ناشکروں کے سوا کسی کو سزا نہیں دیتے۔”

 سبق

قوم سبا کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نعمتوں کی قدر کرنا شکر کا پہلا زینہ ہے۔ جب انسان غرور اور ناقدری میں مبتلا ہوتا ہے، تو نعمتیں عذاب بن جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔” (سورۃ ابراہیم: 7)

 خلاصہ

قوم سبا کی تاریخ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ نعمت، طاقت اور خوش حالی ہمیشہ اللہ کی امانت ہیں۔ جب انسان ان نعمتوں کو بھول جاتا ہے، تو انجام ہمیشہ پشیمانی اور بربادی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

Follow us

1 COMMENT

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here